Friday, 23 December 2016

گزشتہ سال ایگزیکٹ کے چپڑاسی نے عمیر کے متعلق انکشافات کئے



جعلی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس بیچنے کے اسکینڈل میں ملوث ایگزیکٹ گروپ کےوائس پریذیڈینٹ عمیر حامد عرف ’شاہ خان‘ کو امریکا میں 20برس تک قیدہوسکتی ہے،گزشتہ سال ایگزیکٹ کے چپڑاسی نے عمیر کے متعلق انکشافات کیے تھے۔

ایگزیکٹ کمپنی کا ایک چپڑاسی ایف آئی اے کو پہلے ہی بتاچکا ہے کہ عمیر حامد نے شعیب شیخ کے ساتھ مل کر اسے امریکی عدالت کو دھوکا دینے کے گر سکھائے تھے۔

پندرہ ارب روپے سے زائد کی جعلی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس بیچنے کے اسکینڈل میں ملوث ایگزیکٹ گروپ کے کرتا دھرتا اب امریکی عدالت میں سنگین الزامات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ایگزٹ گروپ کے ایک چپڑاسی نے 2015ءمیں ایف آئی اے کو بتایا تھا کہ ایگزیکٹ کےچیف آپریٹنگ آفیسر وقاص عتیق نے اسے 2011ءمیں اپنے دفتر بلایا تھا اور مشی گن کی ڈسٹرکٹ کورٹ کے ساتھ آن لائن کانفرنسنگ کال کرنے کے گر سکھائے تھے،جہاں بلیفرڈ ہائی اسکول اور بیلفرڈ یونیورسٹی کے طلبہ نے مقدمات دائر کر رکھے تھے،وقاص نے سمجھایا تھا کہ کمپیوٹر میں لگے کیمرے کے سامنے ہونٹوں کو کس اندازمیں جنبش دینا ہے۔
چپڑاسی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو کانفرنسنگ کے وقت وقاص عتیق کے کمرے میں شعیب شیخ،وقاص عتیق اور اب امریکا میں گرفتار عمیرحامد بھی موجود تھا۔
چپڑاسی کے مطابق وہ محض اپنے ہونٹوں کو خاموشی سے جنبش دیتا رہا جیسے کہ اردو میں ایک دو تین چار پڑھا جاتا ہے جبکہ کمپیوٹر کے پیچھے وقاص عتیق کاغذ پر جواب تیار کرتا رہا اور حامد کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ انہیں پڑھ کر امریکی جج کے سوالات کے جوابات دیتا رہے اور عمیر حامد ہی کےجوابات کا امریکی عدالت کے مترجم نے بطور جواب ترجمہ کیا، یہ عمل تین گھنٹےتک جاری رہا۔
چپڑاسی کا کہنا تھا کہ جب ایگزیکٹ اسکینڈل کا میڈیا میں چرچا ہوا تو عمیر حامد اس کے پاس وقاص عتیق کاپیغام لے کر آیا کہ کہیں روپوش ہوجاؤساتھ ہی پچیس ہزارروپےبھی دیے۔
چپڑاسی کا کہنا تھا کہ وہ رقم لے کر اپنے آبائی علاقے جہلم چلا گیا تھا اور پھر ایف آئی اے کے سامنے اس کی پیشی ہوئی۔
عمیر حامد پاکستان میں بھی ایگزیکٹ اسکینڈل میں گرفتار ہوچکا ہے اور ان دنوں ضمانت پر رہا ہے، عمیر حامد ستمبر میں امریکا چلا گیا تھا، جہاں اسے 15ارب روپے سے زائد کی جعلی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس بیچنے کے الزام میں بیس برس تک قیدہوسکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment